معجزاتی مرغی

اتوار کے روز چکن خریدنے ایک مرغی والے کی دوکان پر گیا تو عجب منظر دیکھا، لوگوں کا ایک ہجوم لگا ہوا تھا اور کسی چیز کی نیلامی ہورہی تھی، ایک آواز آئی’’پانچ سو‘‘۔۔۔دوسری آئی ’’ایک ہزار‘‘۔۔۔میں نے قریب کھڑے ایک صاحب سے پوچھا کہ کس چیز کی بولی لگ رہی ہے؟

اس نے نہایت عقیدت سے جواب دیا’’ معجزے کی‘‘۔۔۔میں بوکھلا گیا، تفصیل پوچھی تو پتا چلا کہ مرغی والے کے پاس ایک ایسی مرغی ہے جس پر قدرتی طور پر لفظ’’اللہ‘‘ لکھا ہوا ہے، سب لوگ اسے خریدنا چاہ رہے ہیں اور اسی کی بولی لگ رہی ہے۔‘‘

میرا اشتیاق بڑھا، مرغی والا اپناکام چھوڑ کر فخر سے ایک طرف کھڑا تھا اور بڑھتی ہوئی بولی پر نہال نظر آرہا تھا۔ میں نے بمشکل ہجوم میں جگہ بنائی اور آخر اس مقدس مرغی تک پہنچنے میں کامیاب ہوگیا۔

میں کامیاب ہوگیا۔ یہ ایک درمیانے سائز کی دیسی مرغی تھی جس کے گلے میں مرغی والے نے موتیئے کے ہار ڈال کر اسے الگ سے رکھا ہوا تھا۔ میرے وہاں پہنچتے پہنچے مرغی کی بولی پانچ ہزار تک پہنچ چکی تھی. میں نے غور سے مرغی کا جائزہ لیا

لیکن مجھے کہیں بھی اللہ لکھا ہوا نظر نہیں آیا۔ مرغی والے سے پوچھا تو اسے غصہ آگیا، اس نے جنگلے کے اندر ہاتھ ڈال کر مرغی کو ایک جھٹکے سے پکڑا اور اس کا دائیاں حصہ میری طرف کرتے ہوئے بولا’’یہ دیکھو‘‘۔ میں نے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر وہاں دیکھا لیکن پھر بھی کچھ نظر نہیں آیا،

میں سمجھ گیا کہ ایک گنہگار ہونے کے ناطے میں یہ روح پرور منظر دیکھنے سے محروم ہوں لہذا آہ بھر کر پیچھے ہٹ گیا۔۔۔بولی آٹھ ہزار پر جارہی تھی۔بالآخر ڈیڑھ گھنٹے بعد مذکورہ مرغی پندرہ ہزار میں فروخت ہوگئی۔جن صاحب نے اسے خریدا ان کی خوشی دیدنی تھی،

جب وہ مرغی حاصل کرچکے تو میں نے ان سے گذارش کی کہ پلیز ذرا مجھے بھی وہ نام دکھائیں جس کی وجہ سے آپ نے اتنی مہنگی مرغی خریدی ہے۔ انہوں نے نہایت اخلاق سے سرہلایا اور مرغی کی دائیں طرف ایک جگہ انگلی رکھ دی۔ اب کی بار میں نے پوری توجہ سے وہاں دیکھا لیکن کچھ سمجھ نہ آیا۔

وہ صاحب بھی غالباً میری مشکل سمجھ گئے تھے لہذا انہوں نے اپنی انگلی سے مختلف پیچ و خم کے بعد ہر لکیر مجھے سمجھائی اور میں نے سر ہلا دیا۔۔۔تاہم یہ بات میری سمجھ میں نہیں آئی کہ خود مرغی والے نے اتنی بابرکت مرغی فروخت کیوں کر دی؟ مجھے اسلامی تاریخ پڑھنے کا بہت شوق ہے

تاہم میری کم علمی کہہ لیجئے کہ مجھے بار بار کھنگالنے کے باوجود ایسا کوئی ثبوت نہیں مل سکا کہ نبی کریم ﷺ کے دور میں کسی پھل وغیرہ پر اس طرح سے کوئی نام لکھا ہوا نظر آیا ہو۔میں خدا کی قدرت کے نظارے جابجا دیکھتا ہوں اور ان میں کہیں بھی کوئی سقم نہیں پاتا، رنگ برنگے طوطے دیکھتا ہوں

تو ان کے رنگوں میں کوئی جھول نظر نہیں آتا، تتلی کے پروں کو دیکھتا ہوں تو ہر لائن قدرت کی صناعی کی غماز نظر آتی ہے، پہاڑوں سے جھرونوں تک اللہ تعالیٰ کی کاریگری دور ہی سے پہچانی جاتی ہے لیکن میری پتا نہیں جب کوئی مجھے کسی جانور

روٹی یا آسمان پر بادلوں کے جھمگٹے میں ’’اللہ ‘‘یا اس کے رسول ﷺ کا نام لکھا ہوا دکھاتا ہے تو مجھے اپنی ناقص عقل کی وجہ سے اسے پڑھنے اور پہچاننے میں دشواری پیش آتی ہے ۔میں مختلف مذاہب کے ماننے والوں کو انٹرنیٹ پر سرچ کرتا ہوں تووہ بھی ایسی چیزیں دکھاتے نظر آتے ہیں جن میں ان کے دیوتاؤں کی تصاویر اور نام لکھے ہوتے ہیں۔

روٹی آسمان سے نہیں گرتی

جس طرح الٹے سیدھے کھانے جسم کے حدوخال کو بدل کر رکھ دیتے ہیں اسی طرح آپ کی روح پر اخلاقیات سے روگردانی اثر کرتی ہے۔ شکل و شباہت تو نظر آتی ہے مگر روح نہ نظر آنے کے باعث انسان اسے یکسر فراموش کر دیتے ہیں ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جسم سے ذیادہ روح نظر آ رہی ہوتی ہے ،

آپ کے کردار و اطوار کے طور پر۔ بہت سے لوگ جو ظاہر ی طور پر خود کو بہت بنا سنوار کر رکھتے ہیں ، اپنی روح کو بے مہار چھوڑ دیتے ہیں ۔ روح ایک شہد

کی مکھی کی طرح ہوتی ہے ،جو انسان کی عدم توجہ سے مکھی کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ اسے جہاں شہد جمع کرنا ہوتا ہے وہ گندگی جمع کرنے لگتی ہے۔ ہمارے ارد گرد باغ کم اور نالے ذیادہ ہیں ۔ ہمیں ہر دم چوکنا رہنا ہو گا۔ ہمارے چھوٹے چھوٹے عمل ہماری روح کو سرشار کرتے ہیں ۔

3اسے اچھائی کی طرف لے جاتے ہیں ۔ کسی بچے پر ایک محبت بھری مسکان لٹا کر دیکھیں ۔ کسی کی مدد کر کے دیکھیں ، جو خوشی محسوس ہوتی ہے ، وہ آپ کوپیزا کھا کر بھی نہیں ہو گی۔ مزے کی بات تو یہ ہے کہ جسم الٹا سیدھا کھانے کے بعد اپنا آپ ظاہر کرنے لگتا ہے ۔ ہم رُک جاتے ہیں مگر روح ایک بار گندی ہو جائے ہوتی ہی چلی جاتی ہے۔ سمجھیں اس میں وہ سوراخ ہو جاتا ہے ،جو گندگی کو قبول کرنے لگتا ہے۔

اگر چوکنا ہو کر اس سوراخ کو رفو نہ کیا جائے تو آپ کو پتہ بھی نہیں چلے گا کہ کب مکمل روح بدل کر کچھ اور ہی ہو گئی۔ہم ان بُرائی کو بُرائی سمجھتے ہیں جو ہمیں پڑھا دی گئی ہیں ۔سچ میں بُرائی وہ ہوتی ہے جو کرنے کے بعد آپ کا اپنا آپ بتاتا ہے کہ یہ غلط تھا۔بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ لوگ ہمیں اچھائی کے لیبل سے بُرائی فروخت کر رہے ہوتے ہیں ۔

ان نام نہاد اچھائی کے ٹھیکے داروں سے دور رہنے میں ہی بھلائی ہے۔کہانی پڑھ کر سمجھنے کی کوشش کیجئے۔ راجکماری نے پوجا کے بعد اپنی ماں سے کہا۔ اماں بڑی مشکل سے کام ملا ہے مجھے ، جلدی روٹی دے دو۔مجھے جانا ہے۔ چودہ سال کی راجکماری دین دھرم بس اتنا ہی جانتی تھی جتنا اماں نے بتا دیا تھا۔

دانت برش کرنے اور کینسر میں مبتلا ہونے کا گہرا تعلق سامنے آگیا؟

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) اسلام میں صفائی کو نصف ایمان قرار دیا گیا ہے، اس میں نہ صرف، گھر اور اس کے آس پاس کی صفائی شامل ہے بلکہ لباس اور جسم کے اعضا کو بھی صاف اور پاک رکھنا انتہائی ضروری قرار دیا گیا ہے۔ دانت ہمارے جسم کا ایک اہم حصہ ہیں

جو ہمیں خوراک چبانے اور اسے ہضم ہونے میں مدد فراہم کرنے کیلئے اہم کردار ادا کرتے ہیں،دانتوں کی صفائی بہت ضروری ہے اور اس کیلئے والدین بچوں کو دانت برش کرنابچپن ہی سے سکھاتے ہیں لیکن پھر بھی بہت کم لوگ ہوں گےجو باقاعدگی سےصبح شام دو

وقت دانت برش کرتے ہوں گے۔ غیر ملکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں نے تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ”جو لوگ باقاعدگی سے صبح اور رات کے وقت دانت صاف نہیں کرتے ان کے مسوڑھوں میں سوزش شروع ہو جاتی ہے

جوزندگی میں آگے جا کر کینسر لاحق ہونے کے امکانات میں 31فیصد تک اضافہ کر دیتی ہے۔“رپورٹ کے مطابق سٹیٹ یونیورسٹی آف نیویارک کے سائنسدانوں نے اس تحقیق میں مسلسل 8سال تک 54سے 86سال کی عمر کی 66ہزار خواتین کی دانت برش کرنے کی عادت اور طبی ریکارڈ کا تجزیہ کرکے نتائج مرتب کیے ہیں، جن میں سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ تحقیق میں شامل 7100خواتین ایسی تھیں

جو دانتوں اور مسوڑھوں کی بیماریوں کا شکار رہیں اور بعدازاں انہیں کینسر کا مرض بھی لاحق ہوا۔ جو خواتین زندگی میں دانتوں اور مسوڑھوں کے مسائل سے کم دوچار رہیں ان میں کینسر لاحق ہونے کی شرح بھی انتہائی کم تھی۔ ان خواتین میں پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلا ہونے کے امکانات میں 31فیصد، جلد کا کینسر لاحق ہونے کے 23فیصد اور چھاتی کا کینسر لاحق ہونے کے امکانات13فیصد زیادہ ہو جاتے ہیں۔

صرف حضرت عزرائیل علیہ السلام کوموت کا فرشتہ کیوں مقرر کیا گیا انتہائی دلچسپ واقعہ

جبرائیل علیہ السلام پر رب العالمین کا حکم ہوا کہ ایک مشت خاک زمین پر سے لاؤ بحکم الہٰی جبرائیل علیہ السلام بلندی سے آسمان کی فوراً اس زمین پر آئے کہ اب جہاں خانہ کعبہ ہے چاہا کہ ایک مشت خاک لیں اس وقت زمین نے ان کو قسم دی

کہ اے جبرائیل برائے خدا مجھ سے خاک مت لے کہ اس سے خلیفہ پیدا ہو گا اور اس کی اولاد بہت عاصی و گنہگار مستوجب عذاب ہو گیمیں مسکین خاک پا ہوں طاقت و تحمل عذاب خدا کا نہیں رکھتی ہوں، اس بات کو سن کر حضرت جبرائیل علیہ السلام

خاک سے باز آئے۔ غرض اسی طرح سے جبرائیلؑ پھر گئے اور میکائیل اور اسرافیل علیہما السلام سے بھی یہ کام انجام کو نہ پہنچا۔ تب عزرائیل کو بھیجا ان کو بھی زمین نے منع کیا انہوں نے نہ مانا اور کہا کہ جس کی قسم دیتی ہے میں اس کے حکم سے آیا ہوں میں اس کی نافرمانی نہیں کروں گا تجھ کو لے ہی جاؤں گا۔

پس عزرائیلؑ نے ہاتھ نکال کر ایک مٹھی بھر خاک اسی سرزمین سے لے کر عالم بالا پر چلے گئے اور عرض کی کہ خداوند تو دانا و بینا ہےمیں نے یہ حاصل کیا ہے تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے عزرائیل علیہ السلام میں اس خاک سے زمین پر ایک خلیفہ پیدا کروں گا

اور اس کی جان قبض کرنے کے لئے تجھی کو مقرر کروں گا۔ تب عزرائیل علیہ السلام نے معذرت کی کہیا رب تیرے بندے مجھے دشمن جانیں گے اور گالیاں دیں گے۔ جناب باری نے فرمایا اے عزرائیل تو غم مت کر میں خالق مخلوقات کا ہوں

ہر ایک موت کا سبب گردانوں گا اور ہر شخص اپنے اپنے مرض میں گرفتار رہے گا۔ تب دشمن تجھ کو نہ جانے گا۔ کسی کو درد میں مبتلا کروں گا اور کسی کو تپ دق میں اور کسی کو پانی میں غرق کروں گا۔

حضرت جنید بغدادی کے پاس ایک عورت آئی

حضرت جنید بغدادی ؒکے پاس ایک عورت آئی ، اور پوچھا کے حضرت آپ سے ایک فتویٰ چاہئے کہ اگر کسی مرد کی ایک بیوی ہو تو کیا اس کی موجودگی میں دوسرا نکاح جائز ہے ؟ حضرت جنید بغدادیؒ نے فرمایا بیٹی اسلام نے مرد کو چار نکاح کی اجازت دی ہے بشرطیکہ چاروں کی بیچ انصاف کر سکے –

اس پر اس عورت نے غرور سے کہا کہ حضرت اگر شریعت میں میرا حسن دکھانا جائز ہوتا تو میں آپ کو اپنا حسن دکھاتی اور آپ مجھے دیکھ کر کہتے کہ جس کی اتنی خوبصورت بیوی ہو اسے دوسری عورت کی کیا ضرورت؟؟ اس پر حضرت نے چیخ ماری اور بیہوش ہو گئے – وہ عورت چلی گئی جب حضرت ہوش میں آئے تو مریدین نے وجد کی وجہ پوچھی –

حضرت نے فرمایا کہ جب عورت مجھے یہ آخری الفاظ کہ رہی تھی تو الله تعالیٰ نے میرے دل میں یہ الفاظ القا کیے کہ : اے جنید ! اگر شریعت میں میرا حسن دیکھنا جائز ہوتا تو میں ساری دنیا کو اپنا جلوہ کرواتا تو لوگ بے اختیار کہہ اٹھتے کہ جس کا اتنا خوبصورت الله ہو اسے کسی اور کی کیا ضرورت ہے.؟

رات 8 گھنٹے سونے کے بعد بھی صبح تھکن محسوس کیوں ہوتا ہے؟

اکثر افراد صبح اٹھنے کے بعد تھکاوٹ محسوس کرتے ہیں اس کی وجہ آسٹریلو ی ڈاکٹر نے حل کر دی ہے ۔ انٹرنیشنل ویٹ سائٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈاکٹر کارمیل ہیر نگٹن نے کہا ہے کہ اگر آپ 8گھنٹے کی نیند کرنے کے بعد بھی صبح اٹھتے وقت تھکن کا شکار ہیں

تو یقیناً آپ یہ کام بالکل غلط کر رہے ہیں ۔ وہ غلطی یہ ہے کہ آپ کی صبح اٹھنے کا وقت صحیح نہیں ہے آسان لفظوں میں آپ اپنے اٹھنے کا ٹائم مقرر نہ کرنا ہے ۔جو لوگ ہرروزانہ مختلف اوقات پر اٹھتے ہیں ان کے جسم کا نظام بگڑ جاتا ہے جس کی وجہ سے آپ 8گھنٹے کی طویل نیند بھی آپ کو تازہ دم نہیں کر پاتیں ۔

ڈاکٹر کارمیل کے مطابق باڈی کلاک کو نظم و ضبط میں رکھنے کے لیے لازم ہے کہ آپ صبح اٹھنے کا ایک وقت معین کریں اور ہر حال میں اس کی پابندی کریں ۔ اکثرلوگوں کو نہیں پتہ ہوتا کہ ان کے صبح اٹھنے کا وقت ان کے سونے کے وقت پر اثر انداز کرتا ہے ۔

لہٰذا آپ کو چاہیے کہ اٹھنے کا ایک وقت معین کریں اور رات کو سونے کے وقت سے کم از کم تین گھنٹے پہلے کسی بھی طرح کی سکرین ، موبائل فون وغیرہ، پر نظریں جمانا ترک کر دیں ایسا کرنے سے نہ صرف آپ کو بہترین نیند آئے گی بلکہ آپ صبح مقرر کردہ وقت پر اٹھنے میں کامیاب ہو جائیں گے

اور تھکاوٹ سے آپ کی جان چھوٹ جائے گی ۔اکثرلوگوں کو نہیں پتہ ہوتا کہ ان کے صبح اٹھنے کا وقت ان کے سونے کے وقت پر اثر انداز کرتا ہے ۔لہٰذا آپ کو چاہیے کہ اٹھنے کا ایک وقت معین کریں اور رات کو سونے کے وقت سے کم از کم تین گھنٹے پہلے کسی بھی طرح کی سکرین ، موبائل فون وغیرہ،

پر نظریں جمانا ترک کر دیں۔ایسا کرنے سے نہ صرف آپ کو بہترین نیند آئے گی بلکہ آپ صبح مقرر کردہ وقت پر اٹھنے میں کامیاب ہو جائیں گے اور تھکاوٹ سے آپ کی جان چھوٹ جائے گی ۔

غسل میں عورت کن باتوں کا خیال رکهے اور

سوال: فرض غسل میں عورت کن باتوں کا خاص اہتما م کرے ؟ جواب : فرض غسل میں عورت درج ذیل باتوں کا خاص اہتمام کرے ۔ 1۔ غسل طریقہ یہ ہے کہ پہلے ہاتھ دھوئے اور استنجاء کرے پھر بدن پر کسی جگہ نجاست لگی ہو۔ اسے دھوڈالے ۔ پھر وضو کر لے ۔

2۔ غسل میں تین چیزیں فرض ہیں ۔ 1۔کلی کرنا 2۔ناک میں پانی ڈالنا 3، پورے بدن پر پانی بہانا 3۔ بیٹھ کر نہائیں اس میں پردہ زیادہ ہے ۔ 4۔ اگر سر کے بال کھلے ہوں تو سب بالوں کو بھگونا اور جڑوں میں پانی پہنچانا فرض ہے ایک بال بھی سوکھا رہ گیا تو غسل نہ ہوگا۔ 5۔ نتھ ،بالیوں ، انگوٹھی ۔ اور چھلوں کو تنگ ہونے کی صورت میں

خوب ہلائیں تاکہ پانی سوراخوں میں پہنچ جائے ۔ 6۔اگر بالیاں نہ پہنی ہوں تو احتیاطا سوراخوں میں پانی ڈال لے ۔ 7۔اگر بالوں میں گوند افشان لگی ہو تو دھو ڈالے کیونکہ بالوں کی جڑوں میں پانی پہنچانا واجب ہے ورنہ غسل نہ ہوگا ۔ 8۔اگر ناخن وغیرہ میں آٹا لگ کر سوکھ گیا تو پہلے صاف کرے ورنہ غسل نہ ہوگا ۔ 9

۔اگر ناخنوں میں نیل پالش لگی ہو تو صاف کرے کیونکہ یہ بدن تک پانی بیچنے نہیں دیتی ۔ورنہ غسل نہ ہوگا۔ “ولو کان شعرۃ المراۃ منقوضا یجب ایصال الماء الی ٰ اثناء ہ ۔” ( ھندیہ :1/ 14) (دارالافتاء جامعہ حفیظیہ

صرف 1 قطرہ اور نزلہ زکام بخار سب ختم

اسلام علیکم دوستو بہت ہی زبردست علاج آپ کے لیے لے کرآیا ہوں نزلہ زکام کھانسی اورگھرمیں آپ کے مچھر بہت زیادہ ہیں اورکچھ مچھر ایسے ہیں کہ جوکہ سردیوں میں بھی ختم ہونے کو نہیں آرہے۔ سب سے پہلے ہم بات

کرتے ہیں نزلہ زکام اور کھانسی کی جوکہ بچوں بڑوں بوڑھوں تک یہ اثر دیکھانے والا ایک ایسا وائرس ہے جوکہ سردیوں کے شروع میں پیدا ہوتا ہے اور سردیاں ختم ہونے تک رہتا ہے تو اس کے لیے آپ کی خدمت میں ایسا زبردست علاج پیش کررہاہوں۔

سب سے پہلے آپ کو نسخہ بتاتا ہوں جوکہ میرا اپنا ازمایا ہوا ہے یہ نسخہ فیملی میں ازما چکا ہوں اور بہت سارے لوگوں کو بھی دے چکا ہوں۔ مکمل ویڈیو دیکھنے کے لیے نیچے ویڈیو پرکلک کریں

دوستو اس نسخے کے لیے آپ نے سب سے پہلے لینی ہے کلونجی اس کو آپ نے پیس لینا ہے کلونجی کسی بھی جگہ سے ملنے والی عام سی چیز ہے ہم نے پائوڈر کی مانند اس کو بنا لینا ہے دوسرے نمبر پرآپ نے لینا ہے سرسوں کا تیل آپ زیتون کا تیل بھی استعمال کر سکتے ہیں۔

آپ نے ایک فرائی بان لینا ہےاس میں آدھا کپ آئل کا اس میں ڈالیں اوراس میں دوسے تین چمچ کلونجی کے پائوڈر کے اس میں شامل کرکے آپ نے بالکل اسے جلا لینا ہے۔ تقریبان پانچ سےچھ منٹ تک اچھے سے اسے پکا کرجلا لینا ہے اس کے بعد آپ نے اس کو چھان لینا ہے اس سے کلونجی کا جو پائوڈر ہے

وہ علیحدہ ہوجائےگا اور خالی آئل ہے رس آپ کے پاس نکل آئےگا۔ اب آپ نے کیا کرنا ہے اس ٹھنڈی سردی میں خشک سردی میں آپ لوگوں نے رات کو سونے سے پہلے اس کے دو قطرے ایک ناک کے ایک سوراخ میں ڈالیں اور دوسرا قطرہ دوسرے سوراخ میں ڈال کر آپ سو جائیں جب صبح آپ اٹھیں گے اس سے آپ کا رات کو ناک ہرگزبند نہیں ہوگا کیونکہ کلونجی اس میں ایڈ ہورہی ہے ٹھیک ہے۔

اورآپ نے تین دن ریگولر استعمال کرنا ہےگرنٹی ہے تین دن کے اندرآپ کا بخار نزلہ زکام کھانسی بالکل ختم ہوجائے گی اور آپ کو کسی بھی قسم کی تکلیف نہیں ہے ہونے والی اس سے آپ کے ناک کی جو رگیں ہیں وہ بھی کھلیں گی اور آپ کوسکون پہنچے گا اور کے دماغ کوبھی سکون ملےگا۔

بیشمار خوبیوں کا مالک ایک پان کا پتہ

خدا کی دی ہوئی یہ نعمت واقعی جادو کا پٹارا ہے۔ پان کا یہ سادہ سا پتہ خداداد خوبیوں کا مالک ہے۔ البیرونی اپنی کتاب ’کتاب الہند‘ میں لکھتے ہیں کہ ’ہندوستانیوں کے دانت سرخ ہوتے ہیں۔‘ امیر خسرو نے کہا کہ پان منہ کو خوشبودار بناتا ہے۔ چینی سیاح آئی چنگ نے پان کو ہاضم قرار دیا۔

عبدالرزاق جو کالی کٹ کے بادشاہ زمورن کے دربار میں سمرقند سے سفیر بن کر آئے تھے، پان کی خوبیوں کو سراہتے دکھائی دیے۔ کہتے ہیں کہ ’پان کھانے سے چہرہ چمک اٹھتا ہے۔ دانت مضبوط اور سانس کی بدبو دور ہو جاتی ہے۔‘ اگر پان کے طبی فوائد پر نظر ڈالیں تو عقل دنگ رہ جائے گی۔

یہ نہ صرف ہاضم ہے بلکہ پیٹ کی بیماریوں کو رفع کرتا ہے اور بدن پر لگے زخموں کا مرہم بھی ہے۔مغلیہ سلطنت کا ہر بادشاہ پان کے لطف کا قائل تھا اور بادشاہ کے پان کا بیڑہ اٹھاتے ہی ہر ضیافت اپنے اختتام کو پہنچتی تھی۔ پان کے پتے کی خاطر بیان سے باہر ہے۔

ہر پتہ کیوڑے اور عرقِ گلاب سے ملا جاتا تھا۔ 11 پتوں کے پان کا ایک شاہی بیڑہ ہوتا تھا۔ چھالیہ صندل کے پانی میں ابالی جاتی تھی اور چونا زعفران کی خوشبو سے مہک اٹھتا تھا۔

پان کے پتے مختلف اقسام کے ہوتے ہیں جن میں بنگلا، بنارسی، مگھئی، دیسی، امباری اور کپوری کا استعمال عام ہے۔اس کو اکیلا نہیں کھایا جاتا۔ اس کے اور بھی ساتھی ہیں جن کے بنا وہ ادھورا ہے جیسے چھالیہ، چونا،

کتھا، الائچی، لونگ، زردہ، سونف اور گل قند۔ میٹھا پان میٹھا ہو تو گل قند اور سادہ ہو تو صرف الائچی کے دانے۔ غرض اس کے بنانے میں اور ان اجزا کو ملانے میں پان بنانے والے کا سلیقہ اور تجربہ شاملِ کار ہے۔ چونا زیادہ ہو تو زبان زخمی اور کتھا زیادہ ہو تو منہ کڑوا۔پان نے ایک بڑی صنعت کو مروج کیا ہے۔

مختلف مہنگی، سستی دھاتوں سے بنے پاندان، خاصدان، پیک دان، ان پر چڑھانے والے ریشمی غلاف، چونے اور کتھے کی خوبصورت چھوٹی چھوٹی ڈبیائیں اور چمچے، چھالیہ کترنے کے لیے مختلف شکل کے سروتے، پان کوٹنے کے لیے ہاون دستہ، پان رکھنے کے جیبی بٹوے،

پان پیش کرنے کی خوبصورت طشتریاں غرض پان سے جڑی یہ صنائع بہت سے لوگوں کے لیے آمدنی کا ذریعہ بنے اور یہ صنعت آج بھی مروج ہے۔پرانے وقتوں میں پان بنانے کا پیشہ تنبولن کرتی تھی پھر آہستہ آہستہ سڑکوں پر پان کی دکانیں کھلنے لگیں۔ لوگ تنبول کا لفظ ہی بھول گئے بس پان اور پان والا یاد رہ گیا۔

مسئلہ کیا ہے بھائی۔؟

کبھی کبھی کچھ باتیں تکلیف دہ ضرور ہوتی ہیں مگر سمجھ جانے کے بعد انسان ایک مسکراہٹ کے ساتھ اپنی بے وقوفی کو تسلیم کر لیتا ہے ۔ اس کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا ۔فسٹ ایر میں اسے ذرا ذرا سی غلط فہمی ہوئی کہ نائلہ اسے پسند کرتی ہےپھر سیکنڈ ایر میں تو اسے یقین ہی ہو گیا

کہ ہو نہ ہو وہ دل ہی دل میں اسے چاہتی ہے۔ اسی لیے تو کینٹین میں اس کے لیے جگہ چھوڑ دیتی ہے۔ نظر ملنے پر نظر جھکا دیتی ہے۔ جب دوستوں میں تذکرہ ہوتا تو عدیم فخر محسوس کرتا۔

دوست بھی بڑھا چڑھا کر محبت کوبیان کرتے ۔ آج تو نائلہ نے ایک نظر دیکھا ہے چل ٹریٹ دے۔ آج تو نائلہ تیرے قریب سے گزری ہے چل کچھ منگوا۔ مڈل کلاس بندے کے مڈل کلاس دوست کچھ ایسے ہی ہوتے ہیں ۔

عدیم بھی اپنی جمع پونجی دل کھول کر اپنے کنگلے دوستوں پر خرچ کرتا ۔ نام نائلہ کا اور کام نااہلوں کا۔ بس یہی سلسلہ چل نکلا تھا۔ ایک دن وہ ہوا جو ہونا نہیں چاہیے تھا۔

عدیم نے ہمت باندھی اور نائلہ سے بات کرنے کی سوچی ۔ خوداعتمادی اس کے نااہلوں نے سموسوں کے ساتھ چٹنی کھا کر اس قدر بھری تھی کہ اسے لگا آج نہ کہا تو جذبات کہ قہ ہی نہ ہو جائے سو اس نے اپنے دل کو تھاما اور سیدھا نائلہ کی طرف چل پڑا بُرا یہ ہوا کہ کسی کمبخت نے کیلے کا چھلکا راستے میں پھینکا ہوا تھا۔

عدیم کی نظر نائلہ پر تھی،اس کا پاوں پھسلا اور سیدھا نائلہ کہ پاوں میں جا گرا۔ بہت سے فلمی سین اس کی نظر میں گھوم گئے جہاں ہیرو ،ہیروین کے اوپر جا گرتا ہے ۔ یہاں مگر معاملہ ذرا سا مختلف تھا۔ ہیرو نے کیلے کے چھلکے کا کچومڑ نکال دیا مگر ہیروین کے جوتے تک سے نہ ٹکرا سکا۔

انتہائی شرمندگی سے اس نے نظریں اُٹھا کر نائلہ کو دیکھا۔ یہ نام بھی اس کے کان میں اتفاق سے چلا گیا تھا جب اس کی دوست اسے پکار رہی تھی۔ نائلہ اور اس کی دوستوں نے ایک مسکراہٹ بھری نظر اس پر ڈالی اور اس نے مسکرانے کی ناکام کوشش کی مگر اس کی مسکراہٹ اس کے گھٹنوں میں ٹھہر سی گئی۔

اس نے دل ہی دل میں شعر دہرایا۔ ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا اسے خبر نہیں تھی کہ ہونے کیا والا تھا۔ وہ اپنے آپ کو رگڑتا ہوا دوبارہ نائلہ کے سامنے آ کھڑا ہوا۔ وہ اسے بتانا چاہتا تھا کہ کس طرح دو سال سے اسے دیکھ دیکھ کر اور اس کے نام کی پارٹیاں دے کر دن گزار رہا تھا۔

ابھی وہ نائلہ کے سامنے کھڑا ہوا ہی تھا کہ نائلہ نے راستہ بدلنے کی سوچی ، اس نے دوبارہ اس کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بننے کی کوشش کی ۔ اس کی حرکت نائلہ کو ناگوار گزری۔ اس نے گھور کر پوچھا ۔ کیا مسلہ ہے بھائی ۔ ہم نے چھلکا نہیں پھینکا۔ چھلکا ۔

عدیم گویا بھول ہی چکا تھا کہ ابھی بھی وہ سجدہ ریز کیوں ہوا تھا۔ اس نے غور کرتے ہوئے اپنے ناتواں ذہین کو تکلیف دی۔ جو نائلہ کہ ہوتے ہوئے کسی اور چیز کو سوچنے سے انکار کر رہا تھا۔ اس نے مسکرا کر کہا۔ کوئی بات نہیں ۔