جنابت(ہم بستری) کے بعد سونے سے قبل وضو یا غسل

سوال: اگر میاں بیوی جنبی ہوں تو سونے سے قبل غسل لازمی ہے یا صرف وضو ہی کافی ہے؟ برائے مہربانی قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔

جواب: میاں بیوی اگر جنبی (ہم بستری کے بعد)ہوں تو ان کو سونے سے پہلے وضو کرلینا چاہیے،اس مسئلہ میں رہنمائی کے لئے کئی احادیث موجود ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں:

”نبی کریم ﷺ جب حالت جنابت میں کھانا کھاتےیا سونے کا ارادہ فرماتے تو مقام پردہ کو دھو لیتے اور نماز کی طرح وضو فرمالیتے۔” (صحیح بخاری ۔ صحیح مسلم ۔ صحیح ابوعوانہ ۔ صحیح سنن ابی داؤد: 218)

ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:”بے شک حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:”یا رسول اللہ ﷺ کیا ہم میں سے کوئی حالت جنابت میں سو سکتا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں جب وہ وضو کر لے۔”

ایک اور روایت میں ہے:”وضو کر،اپنی شرم گاہ کو دھو اور پھر سوجا۔”

اور ایک روایت میں ہے:”ہاں اسے چاہیے کہ وہ وضو کرے ،پھر سوئے اور جب چاہے غسل کرلے۔”

ایک اور روایت میں ہے:” ہاں اگر وہ چاہے تو وضو کر لے۔” (صحیح بخاری، صحیح مسلم ،ابن عساکر: 2/223/13۔

دوسر ی روایت صحیح ابو داؤد:217 تیسری روایت صحیح مسلم،ابی عوانہ اور سنن بیہقی: 210/1 ۔ آخری روایت صحیح ابن خزیمہ۔

صحیح ابن حبان۔ تلخیص: 156/2میں ہے ،یہ روایت وضو کے واجب نہ ہونے پر دلالت کرتی ہے۔جمہور علماء کے نزدیک وضو واجب نہیں ہے)

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “فرشتے تین آدمیوں کی طرف نہیں جاتے۔کافر کی لاش،اور جس نے زعفران ملی خوشبو لگائی ہواور جنبی آسمی جب تک کہ وہ وضو نہ کرلے۔”
(ابو داؤد)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *