مسئلہ کیا ہے بھائی۔؟

کبھی کبھی کچھ باتیں تکلیف دہ ضرور ہوتی ہیں مگر سمجھ جانے کے بعد انسان ایک مسکراہٹ کے ساتھ اپنی بے وقوفی کو تسلیم کر لیتا ہے ۔ اس کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا ۔فسٹ ایر میں اسے ذرا ذرا سی غلط فہمی ہوئی کہ نائلہ اسے پسند کرتی ہےپھر سیکنڈ ایر میں تو اسے یقین ہی ہو گیا

کہ ہو نہ ہو وہ دل ہی دل میں اسے چاہتی ہے۔ اسی لیے تو کینٹین میں اس کے لیے جگہ چھوڑ دیتی ہے۔ نظر ملنے پر نظر جھکا دیتی ہے۔ جب دوستوں میں تذکرہ ہوتا تو عدیم فخر محسوس کرتا۔

دوست بھی بڑھا چڑھا کر محبت کوبیان کرتے ۔ آج تو نائلہ نے ایک نظر دیکھا ہے چل ٹریٹ دے۔ آج تو نائلہ تیرے قریب سے گزری ہے چل کچھ منگوا۔ مڈل کلاس بندے کے مڈل کلاس دوست کچھ ایسے ہی ہوتے ہیں ۔

عدیم بھی اپنی جمع پونجی دل کھول کر اپنے کنگلے دوستوں پر خرچ کرتا ۔ نام نائلہ کا اور کام نااہلوں کا۔ بس یہی سلسلہ چل نکلا تھا۔ ایک دن وہ ہوا جو ہونا نہیں چاہیے تھا۔

عدیم نے ہمت باندھی اور نائلہ سے بات کرنے کی سوچی ۔ خوداعتمادی اس کے نااہلوں نے سموسوں کے ساتھ چٹنی کھا کر اس قدر بھری تھی کہ اسے لگا آج نہ کہا تو جذبات کہ قہ ہی نہ ہو جائے سو اس نے اپنے دل کو تھاما اور سیدھا نائلہ کی طرف چل پڑا بُرا یہ ہوا کہ کسی کمبخت نے کیلے کا چھلکا راستے میں پھینکا ہوا تھا۔

عدیم کی نظر نائلہ پر تھی،اس کا پاوں پھسلا اور سیدھا نائلہ کہ پاوں میں جا گرا۔ بہت سے فلمی سین اس کی نظر میں گھوم گئے جہاں ہیرو ،ہیروین کے اوپر جا گرتا ہے ۔ یہاں مگر معاملہ ذرا سا مختلف تھا۔ ہیرو نے کیلے کے چھلکے کا کچومڑ نکال دیا مگر ہیروین کے جوتے تک سے نہ ٹکرا سکا۔

انتہائی شرمندگی سے اس نے نظریں اُٹھا کر نائلہ کو دیکھا۔ یہ نام بھی اس کے کان میں اتفاق سے چلا گیا تھا جب اس کی دوست اسے پکار رہی تھی۔ نائلہ اور اس کی دوستوں نے ایک مسکراہٹ بھری نظر اس پر ڈالی اور اس نے مسکرانے کی ناکام کوشش کی مگر اس کی مسکراہٹ اس کے گھٹنوں میں ٹھہر سی گئی۔

اس نے دل ہی دل میں شعر دہرایا۔ ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا اسے خبر نہیں تھی کہ ہونے کیا والا تھا۔ وہ اپنے آپ کو رگڑتا ہوا دوبارہ نائلہ کے سامنے آ کھڑا ہوا۔ وہ اسے بتانا چاہتا تھا کہ کس طرح دو سال سے اسے دیکھ دیکھ کر اور اس کے نام کی پارٹیاں دے کر دن گزار رہا تھا۔

ابھی وہ نائلہ کے سامنے کھڑا ہوا ہی تھا کہ نائلہ نے راستہ بدلنے کی سوچی ، اس نے دوبارہ اس کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بننے کی کوشش کی ۔ اس کی حرکت نائلہ کو ناگوار گزری۔ اس نے گھور کر پوچھا ۔ کیا مسلہ ہے بھائی ۔ ہم نے چھلکا نہیں پھینکا۔ چھلکا ۔

عدیم گویا بھول ہی چکا تھا کہ ابھی بھی وہ سجدہ ریز کیوں ہوا تھا۔ اس نے غور کرتے ہوئے اپنے ناتواں ذہین کو تکلیف دی۔ جو نائلہ کہ ہوتے ہوئے کسی اور چیز کو سوچنے سے انکار کر رہا تھا۔ اس نے مسکرا کر کہا۔ کوئی بات نہیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *