جنابت(ہم بستری) کے بعد سونے سے قبل وضو یا غسل

سوال: اگر میاں بیوی جنبی ہوں تو سونے سے قبل غسل لازمی ہے یا صرف وضو ہی کافی ہے؟ برائے مہربانی قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔

جواب: میاں بیوی اگر جنبی (ہم بستری کے بعد)ہوں تو ان کو سونے سے پہلے وضو کرلینا چاہیے،اس مسئلہ میں رہنمائی کے لئے کئی احادیث موجود ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں:

”نبی کریم ﷺ جب حالت جنابت میں کھانا کھاتےیا سونے کا ارادہ فرماتے تو مقام پردہ کو دھو لیتے اور نماز کی طرح وضو فرمالیتے۔” (صحیح بخاری ۔ صحیح مسلم ۔ صحیح ابوعوانہ ۔ صحیح سنن ابی داؤد: 218)

ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:”بے شک حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:”یا رسول اللہ ﷺ کیا ہم میں سے کوئی حالت جنابت میں سو سکتا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں جب وہ وضو کر لے۔”

ایک اور روایت میں ہے:”وضو کر،اپنی شرم گاہ کو دھو اور پھر سوجا۔”

اور ایک روایت میں ہے:”ہاں اسے چاہیے کہ وہ وضو کرے ،پھر سوئے اور جب چاہے غسل کرلے۔”

ایک اور روایت میں ہے:” ہاں اگر وہ چاہے تو وضو کر لے۔” (صحیح بخاری، صحیح مسلم ،ابن عساکر: 2/223/13۔

دوسر ی روایت صحیح ابو داؤد:217 تیسری روایت صحیح مسلم،ابی عوانہ اور سنن بیہقی: 210/1 ۔ آخری روایت صحیح ابن خزیمہ۔

صحیح ابن حبان۔ تلخیص: 156/2میں ہے ،یہ روایت وضو کے واجب نہ ہونے پر دلالت کرتی ہے۔جمہور علماء کے نزدیک وضو واجب نہیں ہے)

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “فرشتے تین آدمیوں کی طرف نہیں جاتے۔کافر کی لاش،اور جس نے زعفران ملی خوشبو لگائی ہواور جنبی آسمی جب تک کہ وہ وضو نہ کرلے۔”
(ابو داؤد)

گھر ٹوٹنے سے کیسے بچایا جائے؟

xﺍﯾﮏ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﻮ ﭘﮩﻠﯽ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﮐﯽ۔ ﮐﮧ ﭼﺎﺭ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﮐﺎ ﺧﯿﺎﻝ ﺭﮐﮭﻨﺎ۔ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎﺕ ﯾﮧ ﮐﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﺁﭖ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﭘﺴﻨﺪ ﮐﯿﺎ۔

ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭼﮭﯽ ﻧﮧ ﻟﮕﺘﯿﮟ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮑﺎﺡ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﮔﮭﺮ ﮨﯽ ﻧﮧ ﻻﺗﺎ۔ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺑﯿﻮﯼ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﮔﮭﺮ ﻻﻧﺎ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﺎ ﺛﺒﻮﺕ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﺁﭖ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﮯ۔

ﺗﺎ ﮨﻢ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮨﻮﮞ ﻓﺮﺷﺘﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﺍﮔﺮ ﮐﺴﯽ ﻭﻗﺖ ﻣﯿﮟ ﻏﻠﻄﯽ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮭﻮﮞ ﺗﻮ ﺗﻢ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭼﺸﻢ ﭘﻮﺷﯽ ﮐﺮ ﻟﯿﻨﺎ۔ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﻣﻮﭨﯽ ﮐﻮﺗﺎﮨﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﻧﻈﺮ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﮐﺮ ﺩﯾﻨﺎ۔

ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺑﺎﺕ ﯾﮧ ﮐﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﮈﮬﻮﻝ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﻧﮧ ﺑﺠﺎﻧﺎ۔ ﺑﯿﻮﯼ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ، ﮐﯿﺎ ﻣﻄﻠﺐ؟ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺟﺐ ﺑﺎﻟﻔﺮﺽ ﺍﮔﺮ ﻣﯿﮟ ﻏﺼﮯ

ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺟﻮﺍﺏ ﻧﮧ ﺩﯾﻨﺎ۔ ﻣﺮﺩ ﻏﺼﮯ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﮐﭽﮫ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﺎ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﺁﮔﮯ ﺳﮯ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﭼﻞ ﺭﮨﯽ ﮨﻮ ﺗﻮ ﯾﮧ ﭼﯿﺰ ﺑﮩﺖ ﺧﻄﺮﻧﺎﮎ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﺍﮔﺮ ﻣﺮﺩ ﻏﺼﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ۔

ﺗﻮ ﻋﻮﺭﺕ ﺍﻭﺍﺋﮉ ﮐﺮ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﻠﻔﺮﺽ ﻋﻮﺭﺕ ﻏﺼﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻣﺮﺩ ﺍﻭﺍﺋﮉ ﮐﺮ ﺟﺎﺋﮯ۔ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻭﻗﺖ ﻣﯿﮟ ﻏﺼﮧ ﺁ ﺟﺎﻧﺎ ﯾﻮﮞ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺭﺳﯽ ﮐﻮ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﮐﮭﯿﻨﭽﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ۔

ﺍﯾﮏ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺭﺳﯽ ﮐﻮ ﮐﮭﯿﻨﭽﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﮈﮬﯿﻼ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﮟ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﭨﻮﭨﺘﯽ ﺍﮔﺮ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﮐﮭﯿﻨﭽﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﮐﮭﭻ ﭘﮍﻧﮯ ﺳﮯ ﻭﮦ ﺭﺳﯽ ﭨﻮﭦ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﺗﯿﺴﺮﯼ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﯾﮧ ﮨﮯ

ﮐﮧ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺭﺍﺯ ﻭ ﻧﯿﺎﺯ ﮐﯽ ﮨﺮ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﻧﺎ ﻣﮕﺮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺷﮑﻮﮮ ﺍﻭﺭ ﺷﮑﺎﺋﯿﺘﯿﮟ ﻧﮧ ﮐﺮﻧﺎ۔ ﭼﻮﻧﮑﮧ ﺍﮐﺜﺮ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﻣﯿﺎﮞ ﺑﯿﻮﯼ ﺁﭘﺲ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﺍﭼﮭﺎ ﻭﻗﺖ ﮔﺰﺍﺭ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔

ﻣﮕﺮ ﻧﻨﺪ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺳﺎﺱ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﻓﻼﮞ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ، ﯾﮧ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺯﮨﺮ ﮔﮭﻮﻝ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﺷﮑﻮﮮ ﺷﮑﺎﺋﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﻤﮑﻨﮧ ﺣﺪ ﺗﮏ ﮔﺮﯾﺰ ﮐﺮﻧﺎ۔

ﺍﻭﺭ ﭼﻮﺗﮭﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﮧ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﺩﻝ ﺍﯾﮏ ﮨﮯ ﯾﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ﯾﺎ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﻧﻔﺮﺕ۔ ﺍﯾﮏ ﻭﻗﺖ ﻣﯿﮟ ﺩﻭ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮦ

ﺳﮑﺘﯿﮟ۔ ﺍﮔﺮ ﺧﻼﻑِ ﺍﺻﻮﻝ ﻣﯿﺮﯼ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﺑﺮﯼ ﻟﮕﮯ ﺗﻮ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﺭﮐﮭﻨﺎ، ﻣﺠﮭﮯ ﺳﮯ ﺟﺎﺋﺰ ﻃﺮﯾﻖ ﺳﮯ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﻧﺎ،

ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﺳﮯ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﮐﮯ ﻭﺳﻮﺳﻮﮞ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﻧﻔﺮﺗﯿﮟ ﮔﮭﻮﻟﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﻌﻠﻘﺎﺕ ﺧﺮﺍﺏ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﺭﺥ ﺑﺪﻝ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔

سورۃ الفاتحہ کا مجرب وظیفہ

آج ہم آپ کو ایک قرآنی سورۃ بتائیں گے جس سے آپ کے موٹاپے کی پریشانی ختم ہو جائے گی یہ وظیفہ پڑھتے ہی پڑھتے پیٹ کی چربی پگل جائے گی پیٹ کی چربی کم کرنے کے لیے آپ نے بہت محنت کی ہو گی

لیدکن اگر آپ کو اس کا فائدہ نہیں ہو رہا تو پریشان نہ ہوں آج ہم آپ کو ایک وظیفہ اور چند ایسے طریقے بتائیں گے جن پر عمل کر کے آپ فور پیٹ کی چربی سے نجات حاصل کرلیں گے

پیٹ کی چربی کم کرنے کے گھریلو نسخے وش ربا تیز رفتار زندگی ، فاسٹ فوڈ اورورزش کی کمی کا نتیجہ پیٹ کی چربی کی صورت میں نکلتا ہے

اور اس سے نہ صرف انسان بد ہیئت لگتا ہے بلکہ بڑھا ہوا پیٹ امراضِ قلب، بلڈ پریشر اور دیگر کئی امراض کا پیش خیمہ بھیہوسکتا ہے

طبِ مشرق اور آیورویدک طریقہ علاج میں بڑھتے ہوئے پیٹ کو کم کرنے کی کئی تدابیر موجود ہیں جن پر عمل کرکے پیٹ اور سینے کو ایک حد تک ایک ہی سطح پر لایا جاسکتا ہے۔

لیکن اس میں مستقل مزاجی اور صبر کی ضرورت ہے کیونکہ پیٹ نہ ایک ہفتے میں بڑھتا ہے اور نہ ہی ایک ہفتے میں کم کیا جاسکتا ہے۔

اس کے لیے طبِ مشرق کی یہ 8 تدابیر بہت فائدہ مند ہوسکتی ہے پانی کا زیادہ استعمال:اگر آپ کمر کی چوڑائی کم کرنے میں سنجیدہ ہے تو زیادہ پانی پینا بھی اس کا ایک بہترین ٹوٹکا ہے،

پانی خون میں شامل ہوتا ہے اور چکنائی کے سالمات کوگھلاتا ہے جب کہ زیادہ پانی پینے سے بدن کے زہریلے مرکبات خارج ہوتے رہتے ہیں۔

اب ہم دوستو آج کے ٹوپک کی طرف آتے ہیں ایک قرآنی سورۃ بتائیں گے جس سے آپ کے موٹاپے کی پریشانی ختم ہو جائے گی یہ وظیفہ پڑھتے ہی پڑھتے پیٹ کی چربی پگل جائے گی وہ وظیفہ یہ ہے

اس عمل کی اجازت عام ہے کسی بھی وقت باوضو ہو کر پہلے پانچ دفعہ سورۃ فاتحہ پڑھیں اور پھر ایک دفعہ سورۃ لرعد پڑھیں اور یہ عمل موٹاپاختم ہونے تک جاری رکھیں

انشاءاللہ کچھ ہی دنوں میں پیٹ کی چربی پگل جائے گی اس وظیفہ کو شیئر ظرور کریں طب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اوریونانی سسٹم آف میڈیسن میںصدیوں سے استعمال ہونے والی دوا کلونجی پردنیا

بھر میں ہزاروں مطالعے اور لاکھوں کلینکل ٹرائلزہورہے ہیں ۔اب ماجہ اور بخاری شریف میں خالد بن سعد سے روایت ہے کہ ہم لوگ سفر میں تھے۔

ہمارے ساتھ غالب بن الجبر بھی تھے۔ وہ راستے میں بیمار ہو گئے۔ ہم لوگ مدینہ پہنچے تو وہ اس وقت بھی بیمار تھے۔ابنِ ابی عتیق ( عبداللہ بن محمد بن عبدالرحمٰنبن ابو بکرؓ)

ان کی عیادت کے لئے آئے تو ہم سے فرمایا ”تم کالا دانہ استعمال کرو۔ اس کے پانچ سات دانے کر پیس لو پھر زیتون کے تیل میں ملا کر ان کی ناک میں چند قطرے اس طرف ڈالو اور چند قطرے اس طرف ڈالو۔

کیونکہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ان سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ وہ فرما رہے تھے کہ کالا دانہ ہر بیماری کی شفاء ہے سوائے سام کے۔ میں نے کہا سام کیا ہے؟

انہوں نے جواب دیا موت۔ کلونجی کے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے ”اس میں موت کے سوا ہر بیماری سے شفا ہے“یہ بات جدید تحقیقات نے بھی ثابت کردی ہے ۔

اب تک کی گئی تحقیق کے مطابق کلونجی کے بیج ‘ایچ آئی وی ایڈز ‘کینسر‘لیوکیمیا‘ذیا بیطس‘بلڈ پریشر‘ہائپر کولیسٹرول ایمیا اورمیٹا بولک ڈیزیززکے علاج میں انتہائی موثر پائے گئے ہےں۔

فلو ریڈا میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق کلونجی کینسر اور لیوکیمیا میں بھی مفیدہے نیز اینٹی کینسرکیمیو تھراپی کے مضمرات کے ازالہ میں بھی فائدہ مند ثابت ہوئی ہے۔

علاوہ ازیں کلونجی کے استعمال سے مریضوں کی قوت مدافعت میں زبردست اضافہ دیکھا گیا۔جن سنگ‘جنکوبلوبااور کلونجی کے مرکب کے استعمال سے ایڈزکے مریضوں میں ایمیون سسٹم

(مدافعتی نظام) کی کارکردگی میں انتہائی بہتری پیدا ہوجاتی ہے تحقیق کرنے والے سائنس دانوں کے مطابق کلونجی کے حوصلہ بخش نتائج سے ایڈز کے خاتمے میںیقینی پیش رفت ہوئی ہے۔

یاد رہے کہ کلونجی پر آغا خان یونیورسٹی کراچی میں بھی تحقیق ہو رہی ہے اورکلینکل ٹرائلز واسٹڈی نمبرNCT00327054 کے مطابق کلونجی کوذیا بیطس‘بلڈ پریشر‘ہائپر کولیسٹرول ایمیا ورمیٹا بولک ڈیزیززمیں فائدہ مند قرار دیا گیا ہے

عجوہ کھجور کھجوروں کی سردار

ایک حبشی جس کی ناک موٹی، آنکھیں چھوٹی ، رنگت سیاہ، چلتا تو لنگڑاہٹ نمایاں نظر آتی تھی بولتا تو زبان میں لکنت ، غلام ابن غلام باغ کے جھاڑ جھنکار سے کھجوریں چننے میں مصروف تھا،

یہ کھجوریں نرم نہ تھیں اور ذائقہ میں بھی باقی کھجوروں سے مختلف جبکہ رنگ گہرا اور دانہ بہت چھوٹا سا۔جھولی میں آئی کھجوریں اس باغ کا آخری پھل تھا وہ شہر میں انہیں فروخت کرنے کا ارادہ رکھتا تھا

مگر کوئی انکھجوروں کا طلبگار نہ تھا۔اسی اثنا میں ایک آواز آئی’’اے بلالؓ یہ کھجور تو تجھ جیسی کالی اور خشک ہے‘‘۔دل اور خشک ہے‘‘۔

دل کے آبگینے پر اک ٹھیس لگی اور آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے، سیدنا بلال ؓ کھجوریں جھولی میں ہی سمیٹ کر بیٹھ گئے۔

ایسے میں وہاں سے اس کا گذر ہو جو ٹوٹے دلوں کا سہارا ہے جس نے مسکینوں کو عزت بخشی وہ جس کا نام غمزدہ دلوں کی تسکین ہے،

ہاں وہی محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم آپ نے بلال رضی اللہ عنہ سے رونے کا سبب پوچھا تو سیدنا بلال ؓنے جھولی کھول کر سب ماجرہ کہہ سنایا۔

رحمت اللعالمین ﷺ نے بازار کی جانب رخ انور موڑا اور آواز لگائی’’لوگو یہ کھجور ‘‘عجوہ‘‘ ہےیہ دل کے مرض کے لیئے شفاء ہے، یہ فالج کے لیئے شفاء ہے،یہ ستر امراض کے لیئے شفاء ہے،

اور لوگو یہ کھجوروں کی سردار ہے،پھر یہ کہہ کر بس نہیں کیا فرمایا جو اسے کھا لے اسے جادو سے امان ہے‘‘۔

منظر بدل گیا وہ بلال رضی اللہ عنہ جس کے پاس چند لمحے پہلے تک جھاڑ جھنکار تھا اب رحمت اللعالمین ، نبی آخر الزمان ،رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اسے غنی کر دیا۔پھر راوی لکھتے ہیں

کہ لوگ بلال کی منتیں کرتے اور بلال کسی مچلے ہوئے بچے کی مانند آگے آگے بھاگتے۔تاریخ گواہ ہے کہ وہ جسے کبھی دنیا جھاڑ جھنکار سمجھ رہی تھی

بلال رضی اللہ عنہ کی جھولی میں آ کر اورمصطفٰے کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زبان مبارکہ کا صدقہ آج بھی کھجوروں کی سردار ہے

آیت الکرسی کا وظیفہ خالی ہاتھ نہیں لوٹے گا انشاء اللہ

آیت الکرسی کا عالم بننے کے لےے متعلقہ شخص ایک وقت ایسا متعین کر ے جس کی پابندی کرسکے ۔ یہ عمل اکتالیس روز کا ہے۔

وقت معینہ پر با وضوہو کر بیٹھے اور پھر گیا رہ مرتبہ درود شریف پڑھے اور آیت الکرسی تین سو مرتبہ پڑھے اور پھر آخر میں درود شریف گیا رہ مرتبہ پڑھ کر اٹھ کھڑاہو ۔

اسی طرح روزانہ باوضو ہو کر یہ عمل دہراتا رہے ۔درود شریف اول بھی گیا رہ مرتبہ اور آخر میں بھی گیارہ مرتبہ پابندی سے پڑھے

اور آیت الکرسی تین سو بار پڑھے ۔اس تعداد سے نہ کم ہو نہ زیادہ۔ اکتالیس دن کے مزید جاننے کے لیے نیچے ویڈیو پر کلک کریں

اسے پڑھ کر مریض پر صبح وشام دم بھی کردیا کرے اور پانی پر بھی دم کرکے دے اور کم ازکم گیارہ دن پانی پینے کی تاکید کرے ۔

ان گیارہ دنوں میں دم کےے ہوئے پانی کے علاوہ پانی نہ پئےے ۔اس کی تاکید کردی جائے ۔ سورة فاتحہ کا عمل سورةفاتحہ کے لےے کسی وظیفہ کی ضرورت نہیں ہے ۔

ہم میں سے اکثر لوگ پیسہ کمانے کی دوڑ میں مصروف ہیں۔ اس دوڑ میں جیتنے کےلیے ہر جائز و ناجائز کام کر جاتے ہیں۔ ہم جھوٹ بولتے ہیں، بیواؤں کے سر سے چھت چھین لیتے ہیں۔ یتیموں کا حق کھا جاتے ہیں۔

دن رات کرپشن کرتے ہیں۔ پیسہ لوٹنے کے نئے نئے طریقے استعمال کرتے ہیں اور جب ہم سے پوچھا جاتا ہے کہ بھئی آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ تو ہم بھی سردار صاحب کی طرح فخر سے بتاتے ہیں کہ ہم یہ سب کچھ اپنی اولاد کےلیے کر رہے ہیں۔

مسیح خاتون آسیہ ہے کون؟

سپریم کورٹ نے مسیحی خاتون آسیہ بی بی کو بری کردیا .فیصلہ چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے سنایا.

جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس مظہرعالم خان میاں خیل بھی بنچ کا حصہ ہیں . سپریم کورٹ نے 8 اکتوبر کو آسیہ بی بی کی اپیل پر فیصلہ محفوظ کیا .

آسیہ بی بی کسی دوسرےکیس میں مطلوب نہیں تورہاکردیاجائے،عدالت کاحکم.لاہور سپریم کورٹ کی جانب سے توہین رسالت ﷺ کیس میں آسیہ مسیح کو رہا کردیا گیا ہے جس کے بعد شہر شہر احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔

علامہ خادم رضوی اور پیر افضل قادری فیصلے سے پہلے ہی احتجاج کیلئے پنجاب اسمبلی کے باہر پہنچ چکے تھے۔

سپریم کورٹ نے توہین رسالت ﷺ کیس میں آسیہ مسیح کو رہا کردیا ہے جس کے خلاف اسلام آباد، کراچی اور لاہور سمیت دیگر شہروں میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔

تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ علامہ خادم رضوی اور تنظیم کے سرپرست پیر افضل قادری کی قیادت میں کارکنوں نے پنجاب اسمبلی کے باہر دھرنا دے دیا ہے۔

وفاقی دارالحکومت کے سیکٹر جی- 6 آبپارہ میں بھی مذہبی جماعتوں کی جانب سے احتجاج کیا جارہا ہے۔ ریڈزون میں بھی کنٹینرز رکھ دیے گئے ہیں

اور کسی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔کراچی میں نمائش چورنگی، بلدیہ اور نٹی جیٹی پل سمیت متعدد علاقوں میں بھی احتجاج جاری ہے۔

مذہبی جماعتوں کے کارکن سڑکوں پر ٹائر جلا کر احتجاج کررہے ہیں جس سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی ہے۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے توہین رسالت ﷺ کیس میں سزائے موت پانے والی آسیہ مسیح کو بری کردیا ہے۔

عدالت نے آسیہ مسیح کی اپیل پر 8 اکتوبر کو سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا جو آج چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سنایا ۔

فیصلے سے پہلے گزشتہ روز (منگل کو ) علامہ خادم حسین رضوی نے اپنے ویڈیو پیغام میں کارکنوں کو احتجاج کی تیاری کی کال دی تھی اور کہا تھا

کہ ’ صبح 8 بجے تمام عشاقان مصطفیٰ ﷺ سڑکوں پر آجائیں کیونکہ آسیہ کے کیس کا فیصلہ سنایا جائے گا۔ اگر تو فیصلہ حق میں آیا تو دعا کرکے گھروں کو لوٹ جائیں گے

اور اگر یہ فیصلہ گستاخ رسول ﷺ کو رہا کرنے کا دیا جاتا ہے تو کارکن ہر قسم کی قربانی کیلئے میدان عمل میں رہیں“۔

ایک یہودی نے آپ ﷺ سے پوچھا کیسے

اسلام پر تنقید کرنے والے تو ایک جانب خود مسلمان بھی ان باتوں سے غافل ہیں کہ اسلام دین فطرت ہے تو اس میں بیان کردہ ہر حکمت کا اپنا سائسنی وجود بھی ایک حقیقت کھتا ہے

لیکن انسان اپنے محدود علم سے اس کو پہچان نہیں پاتااسلام اور سائنس کو متصادم قراردینے والوں نے تو یہ یقین کررکھا ہے کہ اسلام جن حقیقتوں کی جانب اشارہ کرتا اور انہیں کھول کر بیان بھی کرتا ہے

یہ نعوذ باللہ فرضی ہیں حالانکہ یہ لوگ فرض المرض میں گرفتار ہیں ،ان کی کوتاہ بینی اور تنگ دلی انہیں اسلام کو سمجھنے نہیں دیتی جیسا کہ قرآن میں بیٹوں اور بیٹیوں

کی پیدائش بارے اللہ کا فرمان ہے کہ وہ جسے چاہے بیٹا دے جسے چاہے بیٹیاں ،اس پر میڈیکل سائنس پر ایمان رکھنے والے کہتے ہیں کہ میڈیکل سائنس نے تو اس پر زیادہ تفصیل بیان کررکھی ہے

کہ بچوں کی جنس پر ایکس اور وائے کروموسوم کیا اہمیت رکھتے ہیں اور اس پر کسی کو قدرت نہیں ہے حالانکہ یہی نظریہ چودہ سو سال پہلے رسول کریم ﷺ نے کھول کر بیان کردیا تھا ۔

یہ واقعہ سائنسی تحقیق سے بہت پہلے کا ہے جب بچوں کی پیدائش کو جانچنے کے لئے کوئی لیبارٹری ٹیسٹ وغیرہ موجود نہیں تھے ۔

یہ علم اللہ نے اپنے نبی ﷺ کو عطا کیا تھا کہ آپﷺ یہودیوں کے اس گروہ کے سوال پر یہ حقیقت بیان فرمائیں کہ لڑکی اور لڑکے کی پیدائش میں عورت کے بیضے اور مرد کے جرثومے کیا کردار ادا کرتے ہیں ۔

صحیح بخاری میں اس سے متعلقہ حدیث کے مطابق یہودیوں نے رسول اللہ ﷺ سے اسلام قبول کرنے کے لئے ایسے سوالات پوچھے تھے کہ جن میں ایک سوال یہ بھی تھا ”اب ہم پوچھتے ہیں

کہ عورت مرد کے پانی کی کیا کیفیت ہے؟ اور کیوں کبھی لڑکا پیدا ہوتا ہے۔ اور کبھی لڑکی؟ “آپﷺ نے فرمایا ”سنو مرد کا پانی گاڑھا اور سفید ہوتا ہے اور عورت کا پانی پتلا اور زردی مائل ہوتا ہے

جو بھی غالب آ جائے اسی کے مطابق پیدائش ہوتی ہے اور شبیہ بھی۔ جب مرد کا پانی عورت کے پانی پر غالب آ جائے تو حکم الٰہی سے اولاد نرینہ ہوتی ہے

اور جب عورت کا پانی مرد کے پانی پر غالب آ جائے تو حکم الٰہی سے اولاد لڑکی ہوتی ہے۔“ دوسری حدیث کےالفاظ یوں ہیں”

جب مرد کا پانی عورت کے پانی پر سبقت کر جاتا ہے تو لڑکا پیدا ہوتا ہے اور جب عورت کا پانی مرد کے پانی سے سبق لے جاتا ہے تو لڑکی ہوتی ہے“ یہ جواب سنتے ہی یہودیوں کے سردار نے اسلام قبول کرلیا تھا ۔

یہ حضرت عبداللہ بن سلام تھے جو اللہ کے رسول ﷺ کی حکیمانہ تاویل سن کر کلمہ شہادت پکار اٹھے تھے ۔انہوں نے عرض کیا ”حضورﷺ یہودی بڑے بیوقوف لوگ ہیں۔ اگر انہیں میرا اسلام لانا پہلے معلوم ہو جائے گا

تو وہ مجھے ملامت کریں گے۔ آپﷺ پہلے انہیں ذرا قائل کر لیجئے“ اس کے بعد آپﷺ کے پاس جب یہودی آئے تو آپﷺ نے ان سے پوچھا” عبداللہ بن سلام تم میں کیسے شخص ہیں؟

“انہوں نے کہا ”بڑے بزرگ اور دانشور آدمی ہیں۔ بزرگوں کی اولاد میں سے ہیں وہ تو ہمارے سردار ہیں اور سرداروں کی اولاد میں سے ہیں “آپﷺ نے فرمایا”

اچھا اگر وہ مسلمان ہو جائیں پھر تو تمہیں اسلام قبول کرنے میں کوئی تامل تو نہیں ہو گا؟“ کہنے لگے ”اعوذ باللہ اعوذ باللہ وہ مسلمان ہی کیوں ہونے لگے؟

“حضرت عبداللہ بن سلام ؓجو اب تک چھپے ہوئے تھے ،باہر آ گئے اور زور سے کلمہ پڑھا تو تمام کے تمام یہودی شور مچانے لگے۔ کہ یہ خود بھی برا ہے اس کے باپ دادا بھی برے تھے ۔

یہ بڑا نیچلے درجہ کا آدمی ہے۔ خاندانی کمینہ ہے۔ حضرت عبداللہؓ نے فرمایا” حضور صلی اللہ علیہ وسلم اسی چیز کا مجھے ڈر تھا۔یہ لوگ جھٹلانے والے ہیں “

جرمنی میں لوگ دوائیوں

سونف کے بے پناہ فوائد ہیں اور اسی لئے کہا جاتا ہے کہ ہر گھر میں سونف ضرور رکھنی چاہئے، یہ بچوں کے کئی امراض میں مفید ہے۔ دودھ میں سونف پکا کر بچوں کو پلانے سے پیٹ میں نہ درد ہوتا ہے نہ گیس بنتی ہے۔

آج کل چھوٹے بچوں کی نظر بھی کمزور ہو رہی ہے اس کیلئے تھوڑی سے سونف بچوں کی جیب میں ڈال دیں وہ چلتے پھرتے کھا لیں گے۔

اس سے نظر کی کمزوری بھی دور ہو جائے گی اور معدے کو بھی طاقت ملے گی۔ صبح چائے کا چمچ بھر سونف کھانے سے بینائی تیز ہوتی ہے۔

پرانے نزلہ کیلئے عموماََ خواتین رات کو سوتے وقت ایک بڑا چمچ سونف اور گیارہ بادام کھلاتی ہیںا س سے نزلہ دور ہوتا ہے اور دماغ میں تری آتی ہے۔ اس کے فوراََ بعد چائے ، دودھ یا پانی نہیں پینا چاہئے۔

.کچھ لوگوں کا ہاضمہ خراب رہتا ہے اور اسہال کی تکلیف سے نڈھال ہوتے ہیں۔ جہاں کچھ کھایا، پیٹ میں درد ہو گیا۔ انہیں چاہئے کہ سونف میں تھوڑی سی چینی ملا لیں

اور صبح شام ایک چھوٹا چمچ کھائیں اس سے ہاضمہ ٹھیک رہتا ہے اگر بیل گری مل جائے تو وہ بھی برابر وزن کر کے ملالیں جلدی فائدہ ہو گا۔ جرمنی میں چھوٹے بچوں کو اکثر دوائی نہیں دی جاتی

بلکہ انہیں سونف کا پانی پلایا جاتا ہے ، سونف بازار میں عام دستیاب ہیں، سونف کا پانی ابل کر پلانے سے بچے کئی تکلیفوں سے نجات پا لیتے ہیں

نیکی کا بدلہ بدی

xایک شخص جنگل کے درمیان سے گزر رہا تھا کہ اس نے جھاڑیوں کے درمیان ایک سانپ پھنسا ہوا دیکھا ، سانپ نے اس سے مدد کی اپیل کی تو اس نے ایک لکڑی کی مدد سے سانپ کو وہاں سے نکالا،

باہر آتے ہی سانپ نےکہا کہ میں تمہیں ڈسوں گا۔ اس شخص نے کہا کہ میں نے تمہارے ساتھ نیکی کی ہے تم میرے ساتھ بدی کرنا چاہتے ہو ، سانپ نے کہا کہ ہاں نیکی کا جواب بدی ہی ہے ،

اس آدمی نے کہا کہ چلو کسی سے فیصلہ کرالیتے ہیں ، چلتے چلتے ایک گاۓ کے ایک گاۓ کے پاس پہنچے اور اس کو سارا واقعہ بیان کرکے فیصلہ پوچھا تو اس نے کہا کہ واقعی نیکی کا جواب بدی ہے کیونکہ جب

میں جوان تھی اور دودھ دیتی تھی تو میرا مالک میرا خیال رکھتا تھا اور چارہ پانی وقت پہ دیتا تھا لیکن اب میں بوڑھی ہوگئی ہوں تو اس نے بھی خیال رکھنا چھوڑ دیا ہے۔

یہ سن کرسانپ نے کہا کہ اب تو میں ڈسوں گا اس آدمی نے کہا کہ ایک اور فیصلہ لے لیتے ہیں ، سانپ مان گیا اور انہوں نے ایک گدھے سے فیصلہ کروایا ، گدھے نے بھی یہی کہا کہ نیکی کا جواب بدی ہے،

کیونکہ جب تک میرے اندر دم تھا میں اپنے مالک کے کام آتا رہا جونہی میں بوڑھا ہوا اس نے مجھے بھگا دیا۔سانپ اس شخص کو ڈسنے ہی لگا تھا کہ اس نے منت کرکے کہاکہ ایک آخری موقع اور دو ،

سانپ کے حق میں دو فیصلے ہوچکے تھے اس لیے وہ آخری فیصلہ لینے پہ مان گیا ، اب کی بار وہ دونوں ایک بندر کے پاس گۓ اور اسے سارا واقعہ سناکرکہا کہ فیصلہ کرو۔

اس نے آدمی سے کہا کہ مجھے ان جھاڑیوں کے پاس لے چلو ، سانپ کو اندر پھینکو اور باہر پھر میرے سامنے باہر نکالو ، اس کے بعد میں فیصلہ کروں گا۔وہ تینوں واپس اسی جگہ گۓ ،

آدمی نے سانپ کو جھاڑیوں کے اندر پھینک دیا اور پھر باہر نکالنے ہی لگا تھا کہ بندر نے منع کردیا اور کہا کہ اس کے ساتھ نیکی مت کر ، یہ نیکی کے قابل ہی نہیں۔

کفن چور

بغداد شریف میں ایک پارسا عورت رہتی تھی۔ اس زمانہ میں وہاں ایک کفن چور بھی رہا کر تا تھا ۔ جب وہ پارسا عورت اس دنیا سے رخصت ہوئی توچور نے بھی اس کا جنازہ پڑھا تا

کہ عورت کی قبر دیکھ سکے۔ جب رات ہوئی تو وہ کفن چور اس پارسا عورت کی قبر پر گیا اورقبر کھودی ۔ جب اس نے کفن کو ہاتھ لگایا تو اس پارسا عورت نے چور کا ہاتھ پکڑ لیا ور کہا،

’’اللہ کی شان ہے کہ ایک جنتی کسی دوسرے جنتی کا کفن چرارہا ہے۔ ‘‘یہ بات سن کر کفن چور لرز گیا اور کہنے لگا

کہ اے پارسا بی بی ! تیرے جنتی ہونے میں تو کوئی شک نہیں لیکن میں تو ساری زندگی مردوں کے کفن چرائے ہیں،

میں کیسے جنتی ہو سکتا ہوں ؟ اس پر وہ عورت بولی ، ’’اللہ تعالی نے مجھے بخش دیا اور جس جس نے میرا جنازہ پڑھا ، اسے بھی بخش دیا اور تو نے بھی میرا جنازہ پڑھا ہے۔

‘‘ اس پر کفن چور شرمندہ ہوا ، اس نے توبہ کی اور اپنے زمانے کا قطب بن گیا۔ ( بحوالہ شرح الصدور)شیطان کے وفد کی حضرت عثمانؓ سے ملاقات”ایک دفعہ مدینہ منورہ میں قحط پڑگیا ۔

آسمان نے پانی برسانا چھوڑ دیاتھا اور زمین نے اناج اگانے سے انکار کردیاتھا ۔اس قحط کی وجہ سے پورے شہر میں غربت پھیل گئی تھی لوگ دانے دانے کے لئے محتاج ہو گئے تھے ۔

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ بہت بڑے تاجر تھے ۔ان کی تجارت پورے عرب میں پھیلی ہوئی تھی۔اس دوران ان کا ایک تجارتی قافلہ شام سے لوٹا۔

اس قافلے میں ایک ہزار اونٹ تھے ۔کھانے پینے کی اشیا کے ساتھ جب یہ قافلہ مدینہ کو پہنچاتو لوگوں کو تھوڑی راحت ہوئی ۔

بچے بوڑھے خوش ہوئے لیکنجیسے ہی یہ قافلہ مدینہ پہنچا تاجروں کا ایک وفد بھی ساتھ ساتھ یہاں پہنچ گیا ۔اس وفد نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا وہ اپنا مال فروخت کرنا چاہیں گے؟

ان کا ارادہ تھا کہ سارا مال خرید لیں اور قحط کی وجہ سے مجبور لوگوں کو مہنگے داموں فروخت کرکے بہت سارا نفع کمائیںحضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ آپ اس کی کیا قیمت لگاتے ہیں؟

انھوں نے جواب دیا کہ ہم آپ کو دوگنا نفع دیں گے ۔ یعنی ایک دینار کا مال دو دینار میں خریدیں گے !حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اتنا نفع تو مجھے پہلے سے ہی

مل رہا ہے ۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا جواب سن کر انھوں نے نفع اور بڑھا دیا ۔پھر بھی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے وہی جواب دیا کہ اتنا تو مجھے پہلے سے ہی مل رہا ہے۔

انھوں نے نفع اور بڑھا دیا لیکن اب بھی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے یہی کہا کہ اتنا تو مجھے پہلے سے ہی مل رہا ہے!یہ سن کر وہ تاجر حیران ہوئے ۔

انھوں نے پوچھا کہ عثمان رضی اللہ عنہ ہم اہل مدینہ کو خوب جانتے ہیں ،یہاں کوئی تاجر ایسا نہیں جو تمہارے مال کو ہم سے زیادہ قیمت میں خریدے۔ آخر وہ کون ہے جو تمہیں ہم سے زیادہ نفع دے رہا ہے؟

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جواب دیا — اللہ !جو نفع تم مجھے دے رہے ہو ،میرے رب نے مجھے اس سے بہت زیادہ نفع دینے کا وعدہ کیا ہے۔

یہ کہہ کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے لوگوں کو حکم دیا کہ تمام مال اہل مدینہ اور ضرورتمندوں کے درمیان تقسیم کردیا جائے۔

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے سامنے اس وقت قرآن کی یہ آیت تھی؛”جو لوگ اپنا مال اللہ کی راہ میں صرف کرتے ہیں ان کے خرچ کی مثال ایسی ہے ،جیسے ایک دانہ بویا جائے،

اور اس سے سات بالیں نکلیں اور ہر بال میں سودانے ہوں، اسی طرح اللہ جس کے عمل کو چاہتا ہے بڑھا دیتا ہے،وہ فراخت دست بھی ہے اور علیم بھی“۔

(البقرہ261)حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس تاجروں کا جو وفد آیا تھا وہ درحقیقت شیطان کا وفد تھا وہ آپ رضی اللہ عنہ کو آزمائش میں ڈالنے آیا تھا۔

وہ آپ کے سامنے اسی طرح آیا تھا جس طرح وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے سامنے آیا تھاجبکہ وہ اپنے لاڈلے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی پیش کرنے جا رہے تھے۔

شیطان حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے سامنے دنیوی فائدے کو بڑھا چڑھا کر بیان کر رہا تھا تاکہ عثمان رضی اللہ عنہ آخرت کے دائمی فائدہ سے محروم ہوجائیں ۔

لیکن چونکہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا ایمان زندہ تھا اس لئے انھوں نے دنیوی فائدے پر آخرت کے فائدے کو ترجیح دی۔

انھوں نے سمجھ لیا کہ ان کے سامنے شیطانی وفد ہے جو انھیں اخروی نفع سے ہمیشہ کے لئے محروم کرنا چاہتا ہے ۔ ایسی ہی سخاوت کی وجہ سے انہیں غنی کا لقب عطا ہوا۔